قضا و قدر

قسم کلام: اسم مجرد

معنی

١ - وہ حکم جو باری تعالٰی نے کل موجودات کی نسبت لگا دیے ہیں، قضا وہ حکم اجمالی ہے جو روز ازل تمام موجودات کی نسبت لگایا جا چکا اور قدر وہ حکم ہے جو اس حکم ازلی یعنی قضا کے موافق ہر فرد کی نسبت بتدریج و بالتفصیل ہوتا رہتا ہے، مشیت الہی، حکم الہی، تقدیر۔ "کسی میں مدافعت کا بھی یارانہ تھا اور ان کے حملہ کو قضا و قدر کا طمانچہ سمجھ کر راضی برضا بیٹھ جاتا۔"      ( ١٩٨٦ء، انصاف، ٢١٢ )

اشتقاق

عربی زبان سے ماخوذ اسم 'قضا' کے ساتھ 'و' بطور حرف عطف لگان کے بعد عربی زبان سے ہی اسم 'قدر' ملانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے ١٦٤٩ء میں "خاور نامہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - وہ حکم جو باری تعالٰی نے کل موجودات کی نسبت لگا دیے ہیں، قضا وہ حکم اجمالی ہے جو روز ازل تمام موجودات کی نسبت لگایا جا چکا اور قدر وہ حکم ہے جو اس حکم ازلی یعنی قضا کے موافق ہر فرد کی نسبت بتدریج و بالتفصیل ہوتا رہتا ہے، مشیت الہی، حکم الہی، تقدیر۔ "کسی میں مدافعت کا بھی یارانہ تھا اور ان کے حملہ کو قضا و قدر کا طمانچہ سمجھ کر راضی برضا بیٹھ جاتا۔"      ( ١٩٨٦ء، انصاف، ٢١٢ )

جنس: مذکر